حوروں کے ساتھ ویلنٹائن ڈے : از قلم زیبا شہزاد

اس بار ابھی تک ویلنٹائن کا کوئ کھڑاک نہیں تھا.یوم حیا والے سوئے پڑے تھے اور ویلنٹائن والے بھی ابھی بیدار نہیں ہوئے تھے.ہر سو مہنگائ کا عالم تھا ،لوگ محبت سے منہ موڑے معیشت کو رو رہے تھے.کچھ لوگ ٹک ٹاک اسٹار کے ساتھ تازہ تازہ محبت بھری کالوں کےوائرل ہونے کے سوگ میں تھے.کہ فیس بک پر کسی شوخے نے جمعہ کو آتے ویلنٹائن ڈے کا شوشہ چھوڑ دیا ،کہ اس بار جمعہ ہونے کی وجہ سے یوم حیا والے جمعہ کی تیاری اور ادائیگی میں اس قدر مصروف ہوں گے کہ ویلنٹائن والے اپنا دا لگا جائیں گے.یوم حیا والے جتنے چاہے بند باندھیں اور والدین کے لیئے ویلنٹائن الرٹ جاری کریں ،محبت والے چور راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں،کئ طلبہ گمنام گوشوں کو دریافت کر کے اپنے واٹس اپ گروپس میں ویلنٹائن ڈے پر ان کی سیاحت کی دعوت دے رہے ہیں.

چونکہ اس دن لال رنگ نہائیت مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے اس لیئے اس دن اگر ایران بھی سرخ جھنڈا لہرائے گا تو اسے بھی اعلان جنگ کی بجائے محبت کا اظہار ہی سمجھا جائے گا.مردوں نے اس دن متوقع پکڑ دھکڑ سے بچنے کے لیئے پہلے ہی سے لال مفلر اور کوٹ پہننا شروع کردئیے ہیں ،البتہ خواتین اس دن کی مناسبت سے جو لال چیزیں اکھٹی کرتی ہیں اس کی تیاری ابھی سست رفتاری سے جاری ہے ،وہ چودہ فروری کو ایمرجنسی میں زیادہ پیسے لگا کر خود کو لال لال کر لیں گی.ویسے تو لال لال کرنے کا کام اماں ابا چپیڑیں مار کر زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں .لیکن جو کام مفت میں ہو اس میں اتنی طمانیت محسوس نہیں ہوتی.ویسے بھی ہم وہ قاضی نہیں جو مفت کی حرام شراب پی لیں ،کہ کچھ لوگ اپنے ہاتھوں سے کمایا حلال رزق لگا کر طیب پھلوں سے کشید کیئے ہوئے اس حرام مائع کو اپنے اندر انڈیلنے میں زیادہ ثواب سمجھتے ہیں ،کہ دو جمع ایک کے تناسب سے گناہ کی کثرت کم لگتی ہے.ہمارے ہاں ایک روائیت یہ بھی کہ لڑائ ڈال کر کسی بھی موقع کو بہت خاص کر لیتے ہیں۔

یوں وہ لمحہ بے تحاشا اہمیت کر جاتا ہے اور یادوں میں ہمیشہ کے لیئے امر ہو جاتا ہے،ویلنٹائن ڈے پر بھی کچھ ایسا ہی منظر ہوتا ہے.ویلنٹائن کی مخالفت کرنے والے زیادہ اور حمائیت کرنے والے کم ہیں ، پھر بھی جانے کیسے یہ دن کثیر افراد مناتے ہیں ،مخالفت کرنے والوں کا خیال ہے کہ یہ دن فحاشی کا فروغ اور نری بے حیائ کا دن ہے، وہ اس دن کی بندش پر اس لیئے زور دیتے ہیں کہ اس دن محبت کے نام پر ہوس پوری کی جاتی ہے ،جبکہ ویلنٹائن منانے والے کہتے ہیں کہ یہ کام تو پھر سال کے تین سو پینسٹھ دن جاری رہتا ہے تو پھر ایک دن کے لیئے ہی ان کی غیرت کیوں جاگتی ہے، اور اگر محبت کا اظہار جرم ہی ہے تو میر کے سخن سے جو محبت کی تڑپ کے انگارے سلگتے ہیں اور وصل کی چاہ لیئے محبت کے نام پر جو رومانوی شاعری کی گئ ہے ان تمام محبت ناموں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا ئیں اور اس کی راکھ گنگا میں بہا دیں ، محبت کی پاداش میں محبت کا گیت گاتی لیلیٰ کی سانولی رنگت مزید سنولا دیجئیے ،محبت میں کھودی فرہاد کی نہر سے سیراب ہونا چھوڑ دیجیئے اور وارث شاہ کی لکھی محبت کی داستان ہیر پر سر دھننے والوں کی گردنیں اڑا دیجیئے ،ماضی کے تمام محبت پرور شعرا کو خراج تحسین پیش کرنے کی بجائے ان کی قبروں پر مذمتی کتبے گاڑھ دیئے جائیں اور عصر حاضر کے رومانوی شعرا کو مشاعرے کے بہانے بلا کر کسی ڈی یا سی چوک پر پھانسی دے دینی چاہئے ، کہ یہ بھی تو محبت کا تذکرہ کرتے ہیں ،نوجوانوں کو بھٹکاتے ہیں اورجذبات ابھارنے والی شاعری کرتے ہیں ،اگر ایسا نہیں کر سکتے تو ہمیں ویلنٹائن منانے دیجیئے .

یورپ اور امریکہ میں ویلنٹائن محبت کیوجہ سے منایا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ دن اختلاف کی وجہ سے منایا جاتا ہے. کوئ کہتا ہے ویلنٹائن منانا ہے تو کوئ یوم حیا منانے پہ مصر.ان دونوں کی تکرار سے جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہ کہ یہ دن دونوں ہی مناتے ہیں.کوئ محبت سے منائے یا حیا سے ہماری بلا سے.ہمیں تو اتنا پتہ ہے کہ حیا والے اس دن حجاب بانٹیں گے ،جنھیں پہن کر کچھ خواتین چپکے سے اپنے اپنے ویلنٹائن سے ملنے چلی جائیں گی.سنا ہے ان دنوں مارکیٹ میں کچھ ایسے انجکشن آئے ہیں جس کے لگوانے کے بعد مردوں کو حوروں کا جم غفیرنظر آتا ہے .اور ستارے بتاتے ہیں کہ ریاست مدینہ کے دعوے دار باحجاب خواتین کے ساتھ ویلنٹائن منائیں گے.یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کئ لوگ ویلنٹائن والے دن یہ انجکشن لگوا کر اپنے گرد حوریں اکھٹی کر لیں، لیکن اس امکان کو بھی رد نہیں کرنا چاہیئے کہ اگر دوسرے کونے سے کسی حور کا بھائ نکل آیا تو پھر ہُورے بھی پڑ سکتے ہیں.اور ایسا نہ ہو کہ پھر محبت کا دن عداوت کے نام ہو جائے،پھول کی جگہ پتھر آئے ،گفٹ کی جگہ گالی آئے.لیکن یہ بھی قوی امکان ہے کہ اس معاملے کو رفع دفع کروانے چاند دیکھنے اور چڑھانے والے بیچ میں کود پڑیں اور یوم حیا پر محبت کا درس دیتے نظر آئیں،کہ وہ جانتے ہیں محبت کے معاملے میں دامن تنگ نہیں کرنا چاہیئے یہ تو جدھر سے ملے سمیٹ لینی چاہیئے اور جدھر سے نہ ملے ادھر بانٹ دینی چاہیئے

مصنف کے بارے میں

رابطہ ویب ڈیسک

رابطہ ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

تبصرہ پوسٹ کریں